اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی اس کاروائی میں امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ بال بال بچ گئے مگر ان کے آٹھ محافظین ہلاک ہوگئے۔
مصر کے روزنامہ "الفجر الجدید" نے لکھا ہے کہ امیر قطر دوحہ میں قصر الامیری سے دوحہ کے نواح میں لگی خیمہ بستی جارہے تھے کہ راستے میں ہی دہشت گردوں نے ان پر حملہ کیا۔امیر قطر خیمہ بستی میں روس کے سفیر سے ملنے جارہے تھے۔ کہ راستے میں ایک خودکش حملہ آور نے ان کے قافلے کے سامنے پہنچ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا اور اس کے بعد مسلسل کا سلسلہ شروع ہوا جو کافی طویل تھا۔
الفجر الجدید نے شیخ حمد کے ایک قریبی رشتہ دار کے حوالے سے لکھا ہے کہ گو کہ شیخ حمد اس حملے میں بچ گئے ہیں لیکن دھماکے کی شدت کی وجہ سے ان کا ایک ران زخمی ہوگیا ہے۔

قطر کی حکومت نے اس حادثے کی اطلاعات شائع نہ کرنے پر زور دیا ہے تاہم قطر میں آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں امیر قطر کے ہمراہ ان کا ایک قریبی رشتہ دار، ایک امریکی جنرل اور ان کے آٹھ محافظ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اپڈیٹ: تردید آگئی
دوحہ میں ایران کے سفیر نے ارنا کو بتایا کہ مصری روزنامے کی یہ خبر درست نہیں ہے اور دوحہ میں کوئی قاتلانہ حملہ نہیں ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110